براہوئی زبان کا شمار ان قدیم زبانوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف ایک ثقافتی ورثہ ہیں بلکہ فکری و ادبی اظہار کا زرخیز میدان بھی۔ اس زبان کے دامن میں بہت سے قابلِ قدر شاعروں اور ادیبوں نے اپنی تخلیقات کے نقوش چھوڑےہیں۔ اس زبان کی شاعری میں گہری معنویت، دلنشین اظہار اور فطری خوبصورتی کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ اسی ورثے میں ایک نام ایسا ہے جو براہوئی غزل کو ایک نئی جہت عطا کرتا ہے ــــــــــــ شہزاد نذیر ،
شہزاد نذیر کا تعلق نوشکی سے ہے، جو براہوئی زبان و ادب کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ 6 فروری 1972 کو حاجی میرآزاد خان مینگل کے گھر کلی حاجی میرآزاد خان مینگل کیشنگی میں پیدا ہوئے۔ اپنی ابتدائی تعلیم کلی حاجی میرآزاد خان کیشنگی نوشکی سےاس کے بعد چھٹی جماعت میں پبلک اسکول حیدرآباد، سندھ میں داخلہ لیا اور میٹرک تک تعلیم اسی ادارے سے حاصل کی بعدازاں ایف ایس سی اور بی اے کی تعلیم گورنمنٹ کالج، کوٹڑی، حیدرآباد، سندھ سے مکمل کی شاعری کا شوق انہیں کم عمری یعنی 1986 میں ہی ہو گیا تھا، اور جلد ہی وہ براہوئی ادب کے معتبر ناموں میں شامل ہو گئےشہزاد نذیر کو براہوئی غزل کے مصور کےطورپریاد کیاجاتاہے۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ احساسات کی مصوری ہے جو قاری کو ایک منفرد تخلیقی دنیا میں لے جاتی ہےان کی غزلوں میں عشق، فطرت، اور انسانی جذبات کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ان کی تخلیقات میں الفاظ کی لطافت، خیالات کی گہرائی اورجذبات کی شدت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک شاعر کے لئےغزل کہنا محض الفاظ کا انتخاب نہیں، بلکہ ایک کیفیت کا اظہار ہے، جو کبھی عاشقی کے رنگ میں ڈھل جاتی ہے اور کبھی فلسفے کے انداز میں گہرائی اختیار کر لیتی ہے۔شہزادنزیراپنی تخلیق میں قافیے اور ردیف کی پابندی کے باوجود تخیل کو بے حد وسعت دیتے ہیں۔ وہ کلام کو ایسی روانی بخشتے ہیں کہ ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل خیال معلوم ہوتا ہے، لیکن غزل کے اشعار مل کر ایک ایسا جمالیاتی تسلسل پیدا کرتے ہیں جو سننے والے کو مسحور کر دیتا ہےشہزاد نذیر نہ صرف اپنے دور کے حالات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ان کے کلام میں انسانی جذبات کی وہ آفاقیت بھی جھلکتی ہےجو صدیوں بعد بھی اپنی تاثیر برقرار رکھتی ہے۔شہزاد نذیر کی شاعری میں بلوچستان کی مٹی کی خوشبو اور اس کے لوگوں کی محبت کا عمیق اظہار ملتا ہےان کے کلام میں بلوچستان کے پہاڑوں کی خاموشی، ریگزاروں کی تپش اور وہاں کی مسافر زندگی کی جدوجہد جھلکتی ہے۔شہزاد نذیر کی شاعری میں بلوچستان کی زبان، ثقافت اور تاریخ کی گونج ہے، جو وطن سے گہری محبت کا گہرا پیغام دیتی ہےان کے الفاظ میں بلوچستان کے لیے ایک خاص قسم کی عقیدت اور وابستگی ہے، جو ہر قاری کے دل میں اس سرزمین کےلئے احترام اور محبت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔شہزاد نذیر براہوئی غزل کےایسےمصورہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے براہوئی ادب کونئی جہت عطا کی ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ چار کتابوں کےمصنف ہیں،جن میں دو کتابیں “سہیل ناپرک ہتم ناطوبے” مارکیٹ میں آئےہیں جبکہ دو کتابیں زیر طبع جن میں “عرب ناطوبے (نعتیہ مجموعہ) اور”باسُناسیخا”ہے۔ ان کتابوں میں محبت، فطرت، اور زندگی کےمختلف پہلوؤں کی تصویر کشی کی گئی ہے، جو قاری کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ہے۔شہزاد نذیر کو شاعری کےساتھ موسیقی سےبھی گہرا لگاؤ ہے۔شہزاد نذیر براہوئی موسیقی میں ایک بہترین موسیقار اور طرز نگار کے طور پر اپنی الگ پہچان بھی رکھتے ہیں کہ اپنی غزل ، گیتوں کی موسیقی اکثر خود ترتیب دیتے ہےان کے لکھےہوئے گیت براہوئی موسیقی کےمیدان میں بھی بے حدمقبول ہیں۔ ان کےگیتوں کوعبدالقادرآزاد،بابل جان، محمد عالم مسرور، عبد الخالق فرہاد، نوشین قمبرانی، عبد السلام آزاد، وسیم عالم، نور حیات، امام بخش شاہین،باسط زیب،سیف جان،سعیدراز،غنی جان،عارف جان،استادعیسی خان،کامران ساگرسمیت دیگر گلوکاروں نے گایا ہے۔ یہ گیت براہوئی ثقافت، محبت، اور جذبات کے آئینہ دار ہیں اور سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ان کی شاعری کو نہ صرف قارئین نے سراہا بلکہ انہیں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی ایوارڈز سےبھی نوازا گیا ہے، جن میں ضلعی سطح پرصوبائی سطح پر ایوارڈ اور قومی سطح پر اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سےبہترین براہوئی شاعری پر تاج محمدتاجل ایوارڈ نمایاں ہے۔شہزاد نزیر اپنے چاہنے والوں کواپنا ایوارڈ سمجھتا ہےشہزاد نذیر کی شخصیت ان کی شاعری کی طرح منفرد اور دلکش ہے۔وہ سادہ مزاج اور عاجزی کے پیکر ہیں، جن میں فخر یا تکبر کا شائبہ تک نہیں۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو ان کے مداحوں کے دلوں میں مزید محبت اور احترام پیدا کرتا ہے۔شہزاد نذیر کی شاعری براہوئی زبان کے ادب کا ایک اہم حصہ ہے۔ان کا فن، ان کی شخصیت، اور ان کا ورثہ براہوئی ادب کی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہےگا۔ان کی تخلیقات اور ان کےگیت براہوئی زبان کے ہر دلعزیز پہلو ہیں جو وقت کےساتھ مزید روشن ہوتے جائیں گے۔ان کا نام براہوئی ادب کے افق پر ہمیشہ چمکتا رہے گا۔
ان کے خوبصورت کلام سےنمونہ کلام آپ سب کی نذر
نا تروکا پن اٹ چائک دُنیاننے
نزیر دُنیا کے دا شہزاد ئےداسکان
ــــــــــــ
پاسہ لگہِ چراغ دےانبار
اُست نی سادہ اُس ننےانبار
ــــــــــــ
دغابازے دُنیا نی ام مکرباز اُس
فریباک نا اُستء ٹُکر کرینو
ــــــــــــ
پدکہنگان نی کنا قبرآ بروس انتس کروس؟
مِش تاڈھیرا نی چراغےلگفوس انتس کروس؟
ــــــــــــ
دا ہیت اف ننامہرجائی متو
نمےاسکان بختءرسائی متو
ــــــــــــ
مرضی اےعشق نہ ہو ہر کسے کہ یار کرے
کسے فقیر کرے کسے تاجدار کرے
ــــــــــــ
داڑے ارکس نہ تینا دنیاسے
نن فقیراتہ درد میراثء .
ــــــــــــ
گلہ دوستاک نزیر کیرہ ننے آن
نن تو دشمن تیا ہم مہربانون
ــــــــــــ
ننا سجدہ غا تے ٹی زکرِ ہمو نا
ننے بددعا ہر دعا ٹی کرینے
ــــــــــــ
اوڑتون ہوغاٹ نذیرؔ گلستانس ہِنا
او مگر مخسا تِس شغانس ہِنا
بے قلم کاغذآن پین نے انتس ارے
چار لوظ شاعری نا کُل جاگیرے نا
ــــــــــــ
زیب کیک گل گلاب نا شاخ ٹی
جَور نا پُھل زیبدار ے جَور تون
راست پاو نا ہمسفر وڑپک کنے
گام کے خاخوس دُہنکہ مور تون
ــــــــــــ
غزل
آخر دا غم ء انتہا ئس مروئے
ننا درد کِن ہم دوا ئس مروئے
